ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ساورکر کو بھارت رتن دینا مجاہدین آزادی کی توہین ہوگی: ایس ڈی پی آئی 

ساورکر کو بھارت رتن دینا مجاہدین آزادی کی توہین ہوگی: ایس ڈی پی آئی 

Thu, 24 Oct 2019 17:42:39    S.O. News Service

نئی دہلی،24/اکتوبر (ایس او نیوز/پریس ریلیز) سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آ ف انڈیا (SDPI)نے مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے انتخابی منشور میں ہندوتوا آئکن ونائک دامودر ساورکر کو ہندوستان کو سب سے اعلی شہری ایوارڈ بھارت رتن سے نوازنے کے اعلان کی سخت مخالفت کی ہے۔ ایس ڈی پی آئی کے قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ساورکر کو قومی ہیرو کی حیثیت سے اعزاز نہیں دیا جاسکتا ہے کیونکہ انہوں نے ملک دشمن اور انسانیت سوز وراثت اپنے پیچھے چھوڑا ہے۔ انہوں نے آغاز میں ہندوستان کیلئے لڑا تھا لیکن وہ نظریاتی اور عملی طور پر برطانوی کٹھ پتلی کے طور پر ختم ہوئے تھے۔ انہوں نے ہندوتوا کے تصور کو پیش کیا تھا جو ذات پات، انگریز اور ہندوعلیحدگی کے تابع ہونے کے مترادف تھا۔ ایم کے فیضی نے مزید کہا ہے کہ ساورکر نے دو قومی نظریہ کی کھلے عام حمایت کی تھی۔ آزادی سے قبل ہندوستان میں دو قومی نظریہ کوآگے بڑھانے میں ان کے کردار کے بارے میں مکمل جائزہ لینے کیلئے ہمیں ان کے قول و عمل سے واقف ہونا چاہئے جب کہ وہ ایک آزاد آدمی تھے اور انہوں نے 1937سے 1942تک ہندو مہا سبھا کی رہنمائی کی تھی۔ ایم کے فیضی نے سوال کیا کہ مہاراشٹر ا بی جے پی نے یہ وعدہ کیوں کیا ہے کہ وہ ساورکر کو بھارت رتن عطا کرنے کی کوششیں شروع کرے گی؟۔ایم کے فیضی نے کہا کہ اس اعلان کی اصل وجہ یہ ہے کہ بی جے پی ہندوتوا سیاست پر اپنی گرفت برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ مہاراشٹرا میں برہمن ووٹوں کو راغب کرنے کیلئے بھی بی جے پی کی یہ ایک چال ہے۔ دریں اثناء، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے 'ہندوستانی نقطہ نظر 'سے 'تاریخ کو دوبارہ لکھنے 'کا مبینہ بیان مکمل طور پر غیر ضروری اور بدنیتی پر مبنی ہے۔ ماضی کے بارے میں نئے حقائق سامنے آجاتے ہیں یا پھر ایسے نئے شواہد ملتے ہیں جو پچھلی تشریحات کو چیلنج کرتے ہیں تو ایسے میں تاریخی واقعات کو واقعتا دوبارہ لکھا جاسکتا ہے۔لیکن مسٹر شاہ کی 'تاریخ کو دوبارہ 'لکھنے کا بیان پہلے سے طئے شدہ نتائج کی پیش گوئی ہے او ر اسے ان کی حکومت اور ان کی سیاسی تنظیم کے مجموعی عالمی نظریہ سے الگ تھلگ نہیں دیکھا جاسکتا ہے۔ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے اس بات کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوتوا دائیں بازو نے بڑے پیمانے پر مہاکایوں اور مذہبی متون کو پڑھنے کے ذریعے ہندوستا ن کی قدیم ماضی کی تعریف کی ہے اور قرون وسطی کے دور کو باہر والوں کے حملوں کی داستان کے طور پر پیش کیا ہے۔


Share: